Martial Law Imposed on a Cantonment Shop
میمو، لاتیں، گھونسے اور فوج کا مورال: تحریر ندیم سعید
پاکستانی نژاد امریکی منصور اعجاز میمو کی ڈگڈی بجا رہے ہیں اور پوری دنیا بندر کا تماشا دیکھ رہی ہے، یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اس میں بندر کون ہے۔ پاکستانی قوم جس کا ہمارے دائیں بازو کے پنجابی دانشور ، لکھاری اور صحافی ڈھول بجاتے رہتے ہیں بہت نازک مزاج ہے اور اس سے کہیں زیادہ نازک پنجاب سے ہی تعلق رکھنے والی پاکستانی فوج کا مورال ہے جو بات بات پر گر جاتا ہے۔انہیں پاکستانیوں جو بوجہ تفریح طبع کثرت آبادی کی بنیاد پر سندھیوں ، بلوچوں، پشتونوں اور سرائیکیوں کو اپنے انگوٹھے کے نیچے رکھتے ہیں کااپنا کنٹرول دوسروں کے ہاتھوں میں رہتا ہے، اور بعض اوقات مضحکہ خیز طور پر۔ دنیا کے کسی دوردراز کونے میں چھپنے والی کسی متنازعہ کتاب یا کارٹون سے کاروبار زندگی معطل کر بیٹھتے ہیں اور اپنی ہی املاک کا جلاؤ گھیراؤ کر کے بہادری کی دھاک بیٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایسے بہادروں کی سپاہ اور اس کے سورماؤں کا مورال تو کانچ سے بھی زیادہ نازک واقع ہوا ہے اور اس کا خمیازہ سب بھگتے آ رہے ہیں لیکن اس نزاکت میں کمی واقع ہوتی نظر نہیں آرہی کیونکہ مملکت خداداد پاکستان کے سپہ سالار نے ’میموگیٹ‘ کیس میں سپریم کورٹ کو جو جواب داخل کرایا ہے اس کا اختتام اس بات ہر ہوتا ہے کہ ’میمو کے ذریعے فوج کا مورال گرانے کی سازش کی گئی ہے‘۔
مجھے اپنی صحافیانہ ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے فوج کے کمزور مورال کا بارہا اندازہ ہوا، بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ کروایا گیا تو زیادہ بہتر ہوگا۔
مئی دوہزار تین میں جب میں اخبار ’ڈان‘ کے لیے کام کر رہا تھا تو ملتان کینٹ بازار میں کپڑوں کی ایک دکان ’شہزاد فیبرکس‘کے باہر ایک بورڈ ’Out of bound for all ranks‘ اور ملٹری پولیس کے دو باوردی اہلکاروں کو دکان کے باہر ڈیوٹی پر دیکھا تو تجسس ہوا کہ ماجرا کیا ہے۔معلوم یہ ہوا کہ کچھ روز قبل اسی دکان کے باہر ٹریفک پولیس کے ایک کانسٹیبل نے دو موٹر سائیکل سوار نوجوانوں کا ون وے کی خلاف ورزی کرنے پر چالان کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے اس کی پٹائی کردی۔ دونوں نوجوان فوجی کیڈٹس تھے۔
پولیس حکام نے ملتان کور کے حکام سے رابطہ کرکے واقعہ کی شکایت کی تو ادھر سے جواب ملا کہ’ہمارے جوانوں کا کہنا ہے کہ غلطی پولیس والے کی ہے‘۔ خیر تنازعے کو نبٹانے کے لیے تین رکنی ٹیم تشکیل دے دی گئی جس میں دو فوجی اور ایک پولیس افسر شامل تھے۔ کہا گیا کہ واقعہ کے بارے میں اگر کوئی گواہی دینا چاہے تو اس ٹیم یا ٹریبونل کو بیان ریکارڈ کراسکتا ہے۔ دو دن گزر گئے لیکن کوئی نہ آیا، بھلا اس لڑائی میں کون نشانہ بننا پسند کرتا۔ لیکن شہزاد فیبرکس کے مالک کینڈا پلٹ تھے اور گواہی دینا اپنا قانونی فرض سمجھا۔ انہوں نے جو دیکھا بیان کردیا جس کے تحت قصوروار فوجی کیڈٹس ٹھہرتے تھے۔
اب یہ پتہ نہیں چلا کے ان کیڈٹس کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی یا نہیں لیکن ملتان کور نے شہزاد فیبرکس کا معاشی بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ملٹری پولیس کی ڈیوٹی لگا دی کہ بورڈ پر لکھی وارننگ پر عملدرآمد بھی کرائیں۔میں نے تصویر سمیت سارے واقعہ کی خبر بنا دی، جو اگلے روز ڈان میں چھ کالمی سرخی ’Martial Law Imposed on a Cantonment Shop‘ کے ساتھ شائع ہوئی۔ ملتان میں ڈان دن کے دس یا گیارہ بجے پہنچتا تھا لیکن مجھے کوئی صبح سات بجے آئی ایس پی آر سے فون آنا شروع ہوگئے کہ آپ نے یہ کیا کردیا ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ کور حکام سخت غصے میں ہیں۔یہ وہ وقت تھا جب جنرل مشرف مغرب کے سامنے خود کو جمہوریت پسند بن کر دکھانا چاہ رہے تھے۔
ملتان میں آئی ایس پی آر کے اس وقت کے انچارج نے فوج میں شمولیت سے پہلے کچھ عرصہ ڈان میں کام کیا ہوا تھا اور وہ جانتے تھے کہ اس اخبار کو دبانا آسان نہیں، اس لیے وہ بے چارے ایک طرف اپنے افسروں کو ٹھنڈا کرنے کو کوشش کر رہے تھے اور دوسری طرف مجھے سمجھانے کی کہ میں کور آکر اپنے کیے کی وضاحت کردوں۔ اس دوران ملتان میں ڈان کے آفس کے باہر چھ سات جوانوں کو بٹھائے ایک فوجی ویگن نے ڈیوٹی دینا شروع کردی۔
ابھی یہ سب کچھ جاری تھا کہ پتہ چلا کے ملتان بہاولپورہائی وے پر فوجی جوانوں نے ہائی وے پولیس کے ایک سب انسپکٹر کو اس وقت بری طرح پیٹ دیا جب اس نے مقررہ رفتار سے تیز گاڑی چلانے پر ایک فوجی گاڑی کا چالان کردیا۔سب انسپکٹر نشتر ہسپتال کی ایمرجنسی میں داخل تھا۔ میں اپنے فوٹو گرافر ساتھی شاہد بشیر کے ساتھ وہاں گیا تو دیکھا کہ فوجی مکوں سے اس کی ایک آنکھ سوج کر نیلی تھی جبکہ اس کے سارے جسم پر بھی نیل تھے۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ اس کی متاثرہ آنکھ کی بینائی ضائع ہونے کا خطرہ ہے۔ میں نے وہاں کھڑے ہوئے سوچا کہ یہ اصول پسند سب انسپکٹر اپنے بیوی بچوں کو کیا بتائے گا کہ انہیں کی فوج نے اس کا یہ حشر کیا ہے۔
میں نے ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سوچا کہ میں اس زیادتی کو رپورٹ نہ کروں کہ فوج پہلے ہی میرے دفتر کے باہر کھڑی رہتی ہے۔ اس دفعہ میں نے ڈان کے ساتھ ساتھ بی بی سی کو بھی اس واقعہ کی خبر دی۔ اب میرا قصور ناقابل معافی ہوچکا تھا، دباؤ بڑھتا جا رہا تھا اور میری حب الوطنی پر سوال اٹھائے جا رہے تھے جیسے شہزاد فیبرکس اور سب انسپکٹر والے واقعات رپورٹ کر کے میں نے کوئی غداری کر لی ہے۔ آئی ایس پی آر کے انچارج نے لیکن ’سفارت کاری‘ جاری رکھی جو میرے اور ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار کے درمیان ملاقات کے نتیجے میں سامنے آئی۔ مجھے ملنے میں کوئی اعتراض نہیں تھا لیکن میں رضاکارانہ طور پر ’مسنگ پرسن‘ نہیں بننا چاہتا تھا۔
ملاقات خیر خوشگوار ماحول میں ہوئی لیکن میری حیرانی کی اس وقت انتہا نہ رہی جب مجھے بتایا گیاکہ میرے حالیہ اقدامات سے جوانوں کا مورال گرنے کا خدشہ ہے’اور ایسی صورتحال میں دشمن فائدہ اٹھا سکتا ہے‘۔
یعنی جوانوں کا مورال ہائی رکھنے کے لیے Bloody Civilians لاتیں، گھونسے اور معاشی بائیکاٹ سہتے رہیں۔
فوج کا مورال گرانے کا ایک اور الزام مجھ پر اس وقت لگا جب میں نے مشرف دور میں میپکو (ملتان الیکٹرک پاور کمپنی) کے ایک سربراہ جو اس وقت حاضر سروس بریگیڈئر تھے کی بدعنوانی کے بارے میں خبر دی۔ میپکو کی ایک ٹیم نے اس انٹیلیجنس رپورٹ پر ملتان کے بہاولپور روڈ پر واقع ایک بنگلے پر چھاپہ مارا کہ وہاں بجلی چوری کی جا رہی ہے۔ چھاپہ مار ٹیم نے اطلاع کو درست پایا اور اس بنگلے کی پاور سپلائی منقطع کردی۔ یہ کوئی خبر نہیں تھی۔
لیکن خبر اس وقت بنی جب پتہ چلا کہ اس بنگلے کی بجلی فوری طور پر بحال کردی گئی ہے جبکہ چھاپہ مار ٹیم کے تمام اہلکاروں کو معطل کردیا گیا ہے۔ وہ بنگلہ جس کی بجلی منقطع کی گئی تھی وہاں میپکو کے سربراہ جناب بریگیڈئر صاحب خفیہ طور پر اپنی شامیں گزارتے تھے جس کا چھاپہ مارنے والے اہلکاروں کو قطعاً علم نہ تھا۔ ڈان میں یہ خبر چھپی تو پہلے تو اس کی تردید کے لیے ادھر ادھر سے دباؤ ڈلوایا گیا۔ لیکن جب کام نہ بنا تو ایک پریس ریلیز جاری کیا گیا کہ میں اپنے ایک ایس ڈی او دوست کی ترقی کروانا چاہتا تھا جو بریگیڈئر صاحب نے کرنے سے انکار کردیا اور اب میں اس کا انتقام لے رہا ہوں۔ میں نے پریس ریلیز اپنے ایڈیٹر کو بھیج دیا جنہوں نے اسے چھاپنا مناسب نہ سمجھا، البتہ مجھے کہا کہ اگر کوئی فالو اپ ہو تو فائل کرتے ہوئے ڈرنا نہیں۔ چنانچہ اس واقعہ کے کئی فالواپ بھی ڈان میں شائع ہوئے۔
بریگیڈئر صاحب جو میجر جنرل بننے کی دوڑ میں تھے نے مجھے اور ڈان کو فریق بناتے ہوئے ملتان کی ایک عدالت میں دو اڑھائی کروڑ کا دعویٰ کر دیا۔ میں نے اپنی رپورٹس کے حق میں سارے ڈاکومنٹس ڈان کے لیگل ایڈوائزر کو بھیج دیئے ، جو لاہور ہائی کورٹ کے ایک سابق جج تھے۔ ڈاکومنٹس دیکھنے کے بعد انہوں نے کیس لڑنے کا فیصلہ کیا ، لیکن بریگیڈئر صاحب کے وکیل ایک دو پیشیوں کے بعد آنا چھوڑ گئے۔ بریگیڈئر صاحب کے دعوے کا بھی سارا زور اسی پر تھا کہ خبروں کے ذریعے فوج کے وقار کو مجروع کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس سے فوج کا مورال متاثر ہوتا ہے اور دشمن کو فائدہ۔
فوج کا مورال گرنے سے یقیناًدشمن فائدہ اٹھا سکتا ہے لیکن یہ مورال نہ تو جنرل مانک کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے گرتا ہے نہ سیاچن گنوانے پر اور نہ ہی کارگل پر مات کھانے سے۔ اس کا مورال ہائی رکھنے کے لیے ملتان کا سب انسپکٹر لاتے گھونسے کھا کر بھی مقدمہ درج کرانے کی جرات نہیں کرتا، شہزاد اپنی کپڑے کی دکان بند کر کے کینڈاواپس جانے کا سوچتا ہے ، حقانی مستعفی ہوتا ہے اور زرداری بیمار ہوکر دبئی پہنچتا ہے۔
Courtesy: Top Story Online
Posted on December 18, 2011, in Pakistan, Politics, Socio- political issues and tagged Army, Banglow, Bhawalpur, Bloody, Cantonment, Civilians, electricity, Haqqani, Husain, Ijaz, Imposed, ISPR, Law, mansoor, Martial, Military, Moral, Multan, Nadeem, Police, power, Punjab, road, Saeed, shop, story, Theft, Top, trafic, Wapda. Bookmark the permalink. Leave a Comment.
Leave a Comment
Comments (0)